23 ستمبر، 2026، 7:34 AM

میکرون کا اقوامِ متحدہ میں خطاب:امن اور سلامتی ناقابلِ تقسیم؛ سب کو ان سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے

میکرون کا اقوامِ متحدہ میں خطاب:امن اور سلامتی ناقابلِ تقسیم؛ سب کو ان سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے

فرانسیسی صدر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو فرانس کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایمانوئل میکرون نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سیاست میں ’’دوہرے معیار‘‘ پر شدید تنقید کی اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کی جانب واپسی کا مطالبہ کیا۔

میکرون نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قانون شکنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا: کیا ہم ایک مہذب معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں یا موجودہ صورتحال کے ساتھ جنگل کے قانون کی جانب واپس جانا چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ فرانس بین الاقوامی انسانی قانون کے دفاع اور ان بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے جن میں اب تک 116 سے زائد ممالک شامل ہو چکے ہیں۔

میکرون نے عالمی عدالت انصاف کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مکمل استثنیٰ پر مبنی نئے نظام کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو فرانس کی ترجیحات میں شمار کیا۔

انہوں نے خودمختار ممالک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک اپنی مرضی اقوام پر مسلط کرکے حکومتیں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا نتیجہ مزید افراتفری کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ امن اور سلامتی ناقابلِ تقسیم ہیں اور سب کو ان سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے۔

یوکرائن جنگ کے حوالے سے میکرون نے موسم سرما کے قریب اس ملک کی زیادہ سے زیادہ حمایت، بالخصوص توانائی اور دفاعی نظام کی فراہمی کے شعبے میں، ضروری قرار دی اور روس کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے غزہ کے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم غزہ کے معاملے میں غیر فعال رہے تو ہماری ساکھ کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ یہ دعویٰ کرنا کہ امن قائم ہو گیا ہے، جبکہ انسانی امداد کے لیے راستہ نہیں کھولا جانا شرمناک ہے۔

انہوں نے مغربی کنارے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے وجود کے جائز حق پر بھی زور دیا اور کہا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پڑوسی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ضروری ہے، وہ بڑی غلطی کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے آخر میں جنوبی لبنان میں بے گھر افراد کے دیہات کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے لبنان کی خودمختاری کے احترام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ صرف مکمل خودمختاری رکھنے والا لبنان ہی تمام لبنانیوں کے لیے سلامتی بحال کر سکتا ہے۔

News ID 1941587

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha